مومن عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ امن سے نکلا ہے جس کا مطلب اطمینان ، خوف نہ ہونا، تصدیق کرنا اور بھروسہ کرنا ہوتا ہے لہذا مومِن کا مطلب ہوتا ہے وہ جو دِل کی سچائی کے ساتھ ایمان کو قبول کرلے ، دینِ اسلام کے مطابق چلے اور جس پر بھروسہ کیا جاسکے اور دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہو۔ مومن، ایمان، مسلم اور تقوٰی جیسے الفاظ آپ نے سُنے ہوں گے اِ ن کا مفہوم ایک جیسا ہی ہے۔ اِسی طرح مسلمان اور
مومن ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی اُس کے مطابق گذارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ یعنی جو خدا کو ایک مانتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے اور جو خدا کی ہر بات مانتا ہے وہ مومن ہوتا ہے۔
قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالٰی نے مومن کی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جو چیزیں اُن کے سامنے نہیں ہوتیں یا جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتے مگر اُن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اُن پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اِسی طرح مومن عقل اور فکر سے کام لیتے ہیں، اِس کائنات پر غوروفکر کرتے ہیں ، علم حاصل کرتے ہیں۔ انصاف سے کام لیتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور سچی بات کرتے ہیں۔ ماپ تول پورا کرتے ہیں، ضرورت مندوں کو اپنی چیزیں دے دیتے ہیں، فضول باتیں نہیں کرتے، نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی بُرائی کرتے ہیں۔ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن دوسروں کے بُرے نام نہیں رکھتے، نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ جاہل لوگوں سے بحث نہیں کرتے، اگر کوئی امانت دے تو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
مومن سے غلطی ہوسکتی ہے مگر وہ فوراََ توبہ کرتے ہیں اور غلط کام کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔ وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے اور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
حضور پاک ۖ نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپۖ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپۖ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپۖ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک میں یعنی حضور ۖ سب سے محبوب نہ بن جاؤں ۔ جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپۖ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی
تو اب ہم سب اپنا اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ہم مومن ہیں یا صرف مسلمان ہیں ، کیا ہمارے اندر مومینین والی خوبیاں ہیں
اللہ ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے کی تو فیق عطا فرمائے
قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالٰی نے مومن کی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جو چیزیں اُن کے سامنے نہیں ہوتیں یا جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتے مگر اُن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اُن پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اِسی طرح مومن عقل اور فکر سے کام لیتے ہیں، اِس کائنات پر غوروفکر کرتے ہیں ، علم حاصل کرتے ہیں۔ انصاف سے کام لیتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور سچی بات کرتے ہیں۔ ماپ تول پورا کرتے ہیں، ضرورت مندوں کو اپنی چیزیں دے دیتے ہیں، فضول باتیں نہیں کرتے، نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی بُرائی کرتے ہیں۔ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن دوسروں کے بُرے نام نہیں رکھتے، نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ جاہل لوگوں سے بحث نہیں کرتے، اگر کوئی امانت دے تو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
مومن سے غلطی ہوسکتی ہے مگر وہ فوراََ توبہ کرتے ہیں اور غلط کام کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔ وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے اور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
حضور پاک ۖ نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپۖ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپۖ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپۖ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک میں یعنی حضور ۖ سب سے محبوب نہ بن جاؤں ۔ جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپۖ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی
تو اب ہم سب اپنا اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ہم مومن ہیں یا صرف مسلمان ہیں ، کیا ہمارے اندر مومینین والی خوبیاں ہیں
اللہ ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے کی تو فیق عطا فرمائے
No comments:
Post a Comment