Wednesday, 7 November 2012

دودھ پیتے بچے کا وظیفہ


شہر میں ہر طرف مہمان تاجروں کا چرچا تھا، جو ان کے لیے ضرورت کا سامان لے کر آئے تھے. لوگ خوش تھے کہ اب وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خریداری کر سکیں گے. رسد خوب ہو تو قیمت بھی اعتدال میں رہتی ہے. تاجر من مانی نہیں کر سکتے اور یہ بات تو ہے بھی تب کی، جب آسمان پر صرف پرندے پرواز کرتے تھے. ان کی اڑانیں دیوہیکل طیاروں کے لیے خطرہ یوں نہ تھیں کے ان کا دور دور تک کوئی وجود ہی نہی تھا. اہلیان شہر سامان سے
 لدے جگالی کرتے اونٹوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے، جنھیں عیدگاہ کے وسیح و عریض میدان میں ٹھہرایا گیا تھا، لیکن ان لوگوں میں ایک فرد ایسا بھی تھا جو سخت متفکر تھا اور اس کی پریشانی کا اظھار اس کے چہرے سے ہو رہا تھا. جیسے جیسے رات اپنی آنکھوں میں سیاہی کے سرمے کی سلائی کھیچتی جاتی، اس کی پریشانی، اضطراب، اور بڑھتا جاتا. آخر اس سے رہا نہ گیا. اس نے اپنے دوست سے پریشانی کا اظھار کیا اور مدد طلب کی. دوست بھی سچا دوست تھا . وہ بلا تردد فوراً راضی ہو گیا. اب دونوں کے قدم عید گاہ کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں تاجروں کے قافلے نے پڑاؤ ڈال رکھا تھا.

یہ دونوں قافلے کے پاس جا کر ٹھہر گئے اور اپنے اپنے کام میں لگ گئے. دونوں قافلے کے گرد ٹہل رہے تہے. کبھی ایک طرف جاتے اور کبھی دوسری طرف کا رخ کرتے اور کبھی تاریکی میں آنکھیں کھول کهول کر دیکھنے کی کوشش کرتے اور جگالی کرتے بے فکر اونٹوں کے پاس ٹہلنے لگ جاتے. وہ دونوں خاصے چوکنے تھے. انداز ایسا تھا جیسے انھیں کوئی خطرہ ہو. رات کے گھپ اندھیرے میں یہ کام آسان نہیں تھا . دونوں دوستوں نے باہمی مشورہ کیا اوراپنی باریاں لگا لیں.

دراز قامت شخص کی باری آئی تو اس نے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی. بچے کا رونا کوئی انہونی بات نہی، لیکن مسلسل رونے سے لگ رہا تھا وہ معصوم کسی تکلیف میں ہے. اس شخص سے رہا نہ گیا اوروہ احوال معلوم کرنے چلا گیا. اس نے دیکھا کہ شیرخوار بچہ بری طرح روئے جا رہا ہے، جسے اس کی ماں بہلا پھسلا رہی ہے. اس نے بچے کی ماں سے کہا: الله سے ڈر اور اپنے بچے کا خیال کر.

یہ که کر وہ شخص باہر آ گیا، اور پہلے کی طرح قافلے کے گرد منڈلانے لگا. تھوڑی دیر بعد اسے پھر بچے کے رونے کی آواز آئی. بچہ بلک بلک کر رو رہا تھا، وہ پھر اس عورت کے پاس گیا اور اسے تلقین کی کہ بچے کا خیال کرے. اس نصیحت کا اثر تھوڑی دیر ہی رہا. رات کے سناٹے میں ایک بار پھر بچے کے بلکنے کی آواز آنے لگی. اب تو اس شخص کو غصہ آ گیا. وہ اس عورت کے پاس گیا اور کہنے لگا : "تیرا بھلا ہو، میرا خیال ہے تو بچے کے حق میں ٹھیک نہیں. کیا بات ہے تیرا بیٹا آج ساری رات جاگتا رہا. وہ ذرا دیر بھی نہ سویا."

وہ عورت جو اس اجنبی کی بار بار آمد سے جھنجھلا گئی تھی، کہنے لگی: تو نے بھی تو مجے تنگ کیے رکھا. بار بار آتا رہا. میں اس بچے کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں، لیکن یہ نہیں مانتا."
"یہ کیا بات ہوئی. تو اس کا دودھ کیوں چھڑانا چاہتی ہے؟" اجنبی شخص کے لہجے میں حیرت تھی کہ کوئی ماں ایسی سخت دل بھی ہو سکتی ہے.

عورت بولی:"سرکار سے اسی بچے کو وظیفہ ملتا ہے جو ماں کا دودھ چھوڑ چکا ہو. یہ دودھ چھوڑے گا تو مجھے اس کا وظیفہ ملے گا."
عورت کی بات سن کر اس شخص کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا. اس نے پوچھا بچے کی عمر کیا ہے؟
عورت نے بچے کی عمر بتائی. وہ شخص کہنے لگا "تیرا بھلا ہو، اس بچے کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کر." یہ که کر وہ شخص چلا آیا.
باہر صبح صادق کا وقت قریب تھا. فضا میں الله کی کبریائی کا اعلان ہونے لگا. الله اکبر الله اکبر کی صدا سن کر وہ شخص جھرجھری لے کر رہ گیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ اس طرح مسجد کی طرف چل پڑا کہ اس کا سر جھکا ہوا تھا. مسجد پہنچا تو دیگر نمازیوں کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں. وہ دیکھ رہے تھے کہ آج ان کے امام صاحب کچھ غمگین اور افسردہ افسردہ سے ہیں. اس روز وہ دراز قامت شب بیدار نماز میں گڑگڑا گڑگڑا کر رویا. اس نے روتے روتے سلام پھیرا اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: "خبردار کوئی قبل از وقت اپنے بچے کا دودھ نہ چھڑائے. آج سے ہر دودھ پیتے بچے کا وظیفہ مقرر کیا جاتا ہے."

نماز میں ہچکیاں لے لے کر رونے اور یہ اعلان کرنے والے شخص کوئی عام سا بندہ نہی. دعائے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، جو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات بھر جاگتے رہے اور تاجروں کے قافلے پر پہرا دیتے رہے کہ کوئی چوری چکاری نہ کرے. چھتیس ہزار شہروں اور قلعوں کا فاتح اور اجنبی تاجروں کے مال کی چوکیداری. 

از قدرت اللہ شہاب (01)


سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔ گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ ک
چھ لوگ نہا دھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کیلئے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔

ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد کو آباد کر جاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پا گیا ہوتا، تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔

برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملّا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملّا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔

یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔

شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب

انصاف


کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا ، ویرانی دیکھ کر
طوطی نے طوطے سے پوچھا ”کس قدر ویران گاؤں ہے،.؟ “طوطے نے کہا لگتا ہے یہاں
کسی الو کا گزر ہوا ھے

“جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے ، عین اس
وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا ،اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک
کر ان سے مخاطب ہوکر بولا، تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ہو، آج رات تم
لوگ میرے مہمان بن جاؤ،میرے ساتھ کھانا کھاؤ،
اُ
لو کی محبت بھری دعوت
سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلی،
کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی، تو اُلو نے طوطی کا
ہاتھ پکڑ لیا ور کہا .. تم کہاں جا رہی ہو ،طوطی پرشان ہو کر بولی یہ کوئی
پوچنے کی بات ہے ،میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں
الو یہ سن کر ہنسا..اور کہا ..یہ تم کیا کہ رہی ہو تم تو میری بیوی ہو.اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے ور گرما گرمی شروع ہو گئی

دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو اُلو نے طوطے کے کے سامنے ایک
تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ”ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا
مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں،قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول
ہوگا“اُلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں
پیش ہوئے ، ،قاضی نے دلائل کی روشنی میں اُلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت
برخاست کردی،طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا
تو اُلو نے اسے
آواز دی ،”بھائی اکیلئے کہاں جاتے ہواپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ“طوطے نے
حیرانی سے اُلو کی طرف دیکھا اور بولا ”اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے
ہو، یہ اب میری بیوی کہاں ہے ،عدالت نے تو اسے تمہاری بیوی قرار دے دیا ہے“
اُلو نے طوطے کی بات سن نرمی سے بولا، نہیں دوست طوطی میری نہیں تمہاری ہی
بیوی ہے.
میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے. بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے ......!

اللہ کی نعمتوں


ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔
اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا۔
اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔
اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع، رقبے، ڈیزائن، تعمیراتی مواد، باغیچ
ے، سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔
اعلان مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُسکی رائے لے سکے۔
اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا، برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ اور اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا۔
اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟
اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے۔

ایک منٹ ٹھہریئے، میرا مضمون ابھی پورا نہیں ہوا۔
ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو، یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔
اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے۔
ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔
کسی نے کہا: ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ نے پھولوں کے نیچے کانٹے لگا دیئے ہیں۔ ہونا یوں چاہیئے تھا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اُس نے کانٹوں کے اوپر بھی پھول اُگا دیئے ہیں۔
شیخ سعدی نے ایک جگہ لکھا ہے میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا رہا، پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔
اب آپ سے سوال
کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، ٹیلیفون، تعلیمی سند، نوکری وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نہ کر سکے اور تمہارے پاس تعلیم کی سند موجود ہے؟
کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس وہ کچھ نہیں ہے جو آپ کے پاس ہے

کیا خیال ہے ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا

ہمارے تصرفات اور رویئے


سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔
لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشس
ت پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!
ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔
ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔
اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہ کرتے ہوں۔
مگر یاد رکھیئے کہ بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔
یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہوں۔
اس طرح تو ہم سب کو دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال ہونا چاہیئے۔۔
اور ہمیشہ اپنے معاملات میں سچے اور کھرے بھی۔۔
صرف اتنا ہی ذہن میں رکھ کر، کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟ اور ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔
یا پھر اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے
کوشش کریں کہ اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں
ہم مسلمانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سفید کپڑے پر لگا داغ دور سے نظر آ جاتا ہے اس لیے ہمیں اپنے معاملات ٹھیک رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ، 

مومن


مومن عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ امن سے نکلا ہے جس کا مطلب اطمینان ، خوف نہ ہونا، تصدیق کرنا اور بھروسہ کرنا ہوتا ہے لہذا مومِن کا مطلب ہوتا ہے وہ جو دِل کی سچائی کے ساتھ ایمان کو قبول کرلے ، دینِ اسلام کے مطابق چلے اور جس پر بھروسہ کیا جاسکے اور دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہو۔ مومن، ایمان، مسلم اور تقوٰی جیسے الفاظ آپ نے سُنے ہوں گے اِ ن کا مفہوم ایک جیسا ہی ہے۔ اِسی طرح مسلمان اور 
مومن ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی اُس کے مطابق گذارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ یعنی جو خدا کو ایک مانتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے اور جو خدا کی ہر بات مانتا ہے وہ مومن ہوتا ہے۔
قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالٰی نے مومن کی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جو چیزیں اُن کے سامنے نہیں ہوتیں یا جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتے مگر اُن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اُن پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اِسی طرح مومن عقل اور فکر سے کام لیتے ہیں، اِس کائنات پر غوروفکر کرتے ہیں ، علم حاصل کرتے ہیں۔ انصاف سے کام لیتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور سچی بات کرتے ہیں۔ ماپ تول پورا کرتے ہیں، ضرورت مندوں کو اپنی چیزیں دے دیتے ہیں، فضول باتیں نہیں کرتے، نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی بُرائی کرتے ہیں۔ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن دوسروں کے بُرے نام نہیں رکھتے، نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ جاہل لوگوں سے بحث نہیں کرتے، اگر کوئی امانت دے تو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
مومن سے غلطی ہوسکتی ہے مگر وہ فوراََ توبہ کرتے ہیں اور غلط کام کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔ وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے اور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
حضور پاک ۖ نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپۖ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپۖ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپۖ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک میں یعنی حضور ۖ سب سے محبوب نہ بن جاؤں ۔ جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپۖ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی
تو اب ہم سب اپنا اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ہم مومن ہیں یا صرف مسلمان ہیں ، کیا ہمارے اندر مومینین والی خوبیاں ہیں
اللہ ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے کی تو فیق عطا فرمائے 

Qayamat ki Nissaniyan


قیامت کی پندرہ نشانیاں ، حضرت امام مہدی کا ظہور ، فتنہ دجال اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور قرب قیامت کے احوال

مشکوۃ شریف کی حدیث ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مال غنیمت کو دولت قرار دیا جانے لگے اور جب زکوٰة کو تاوان سمجھاجانے لگے اور جب علم کو دین کے علاوہ کسی اور غرض سے سکھایا جانے لگے اور جب مرد بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی 
کرنے لگے اور جب دوستوں کو تو قریب اور باپ کو دور کیا جانے لگے اور جب مسجد میں شور وغل مچایاجانے لگے اور جب قوم وجماعت کی سرداری، اس قوم وجماعت کے فاسق شخص کرنے لگیں اور جب قوم وجماعت کے لیڈر وسربراہ اس قوم وجماعت کے کمینہ اور رذیل شخص ہونے لگیں اور جب آدمی کی تعظیم اس کے شر اور فتنہ کے ڈر سے کی جانے لگے اور جب لوگوں میں گانے والیوں اور سازوباجوں کا دور دورہ ہوجائے اور جب شرابیں پی جانی لگیں اور جب اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو برا کہنے لگیں اور ان پر لعنت بھیجنے لگیں تو اس وقت تم ان چیزوں کے جلدی ظاہر ہونے کا انتظار کرو، سرخ یعنی تیز وتند اور شدید ترین طوفانی آندھی کا، اور زلزلے کا، اور زمین میں دھنس جانے کا اور صورتوں کے مسخ وتبدیل ہوجانے کا اور پتھروں کے برسنے کا، نیز ان چیزوں کے علاوہ قیامت کی اور تمام نشانیوں اور علامتوں کا انتظار کرو، جو اس طرح پے در پے وقوع پذیر ہوں گی، جیسے لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اس کے دانے پے در پے گرنے لگیں۔
”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت ان پندرہ باتوں میں (کہ جن کا ذکر اوپر کی حدیث میں ہوا) مبتلا ہوگی تو اس پر آفتیں اور بلائیں نازل ہوں گی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پندرہ باتوں کو شمار فرمایا، لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس روایت میں یہ بات نقل نہیں کی کہ جب علم کو دین کے علاوہ کسی دوسری غرض سے سکھایاجانے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ نقل کیا کہ جب آدمی اپنے دوست کے ساتھ احسان ومروت اور اپنے باپ کے ساتھ جور وجفا کرنے لگے اور جب شراب پی جانے لگے اور ریشم پہنا جائے“۔
یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک آنے والے چند اہم واقعات وعلامات کی طرف سرسری اور اجمالی اشارہ ہوجائے، تاکہ احادیث کے تمام اجزاء اور سارے پہلو قارئین کے سامنے آجائیں۔ قیامت کی علامات دو قسم پر ہیں
:
۱…علامات صغریٰ
۲…علامات کبریٰ

امام مہدی کے ظہور تک قیامت کی علامات صغریٰ ہیں۔ امام مہدی کے ظہور کے بعد نفخ صور تک قیامت کی علامات کبریٰ ہیں اور پھر قیامت ہے۔ اس باب کی پہلی حدیث میں قیامت کی علامات صغریٰ کا کچھ بیان موجود ہے اور دیگر احادیث میں بھی تفصیل ہے، وہاں یہ بھی ہے کہ دنیا میں باطل نظریات عام ہوجائیں گے، عیسائیت کا بہت سارے ملکوں پر غلبہ ہوجائے گا، پھر کچھ عرصہ بعد ابوسفیان کے نام سے ایک شخص پیدا ہوجائے گا جو سادات کا قتل عام کرے گا، پھر مسلمان بادشاہ عیسائیوں کے ایک فریق سے صلح کرلے گا اور دوسرے سے لڑائی لڑے گا۔ عیسائی فرقہ بھی مسلمان بادشاہ سے مل کر عیسائیوں کے مخالف دھڑے سے لڑے گا ،ان سب کو فتح حاصل ہوجائے گی۔ فتح کے بعد عیسائی نعرہ لگائیں گے کہ صلیب کی برکت سے فتح حاصل ہوگئی ہے اور مسلمان نعرہ لگادیں گے کہ اسلام وایمان کی برکت سے فتح حاصل ہوگئی ہے، چنانچہ اس بات پر خانہ جنگی شروع ہوجائے گی، جس میں مسلمانوں کا بادشاہ شہید ہوجائے گا۔ عیسائیوں کے دونوں فریق ایک ہو جائیں گے اور عیسائی حکومت خیبر تک پھیل جائے گی۔ اس وقت لوگ حضرت مہدی کی تلاش میں لگ جائیں گے۔ حضرت مہدی اس وقت مدینہ میں ہوں گے، مگر چھپنے کی غرض سے وہاں سے مکہ آجائیں گے۔ تاکہ لوگ انہیں امیر اور قائد نہ بنائیں، اس دوران کچھ لوگ مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے کرلیں گے، تاہم مکہ مکرمہ میں مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان حضرت مہدی کو پالیں گے اور ایک جماعت حضرت مہدی کے ہاتھ پر بیعت کرلے گی، آسمان سے آواز آئے گی۔ ”ہذا خلیفة الله المہدی فاستمعوا لہ واطیعوہ“

شکل وشباہت کے اعتبار سے حضرت مہدی حضور اکرم ا کے مشابہ ہوں گے۔ اس کے بعد شام ، یمن اور حجاز مقدس کے ابدال اور اولیاء اللہ حضرت مہدی کے لشکر میں شامل ہوجائیں گے۔ کعبہ کے پاس سے خزانے نکال کر افواج اسلامیہ پر تقسیم کئے جائیں گے۔ لشکر جرار تیار ہو جائے گا۔ خروج مہدی کا سن کر خراسان سے ایک شخص اپنی فوج لے کر حضرت مہدی کی مدد کے لئے مکہ مکرمہ آجائے گا، اس شخص کا نام منصور ہوگا، یہ شخص اپنی فوج کی کمان سنبھال کر جب مکہ کی طرف چل پڑے گا تو راستے میں عیسائیوں سے جنگ ہوجائے گی، یہ شخص عیسائیوں کا صفایا کرتا ہوا آئے گا، اہل بیت اور سادات کا دشمن شخص سفیانی ایک بڑا لشکر تیار کرکے حضرت مہدی کے مقابلے پر بھیج دے گا، مگر یہ لشکر مکہ ومدینہ کے درمیان زمین میں دھنس جائے گا، صرف دو آدمی بچ جائیں گے، ایک تو سفیانی کو جاکر اطلاع کردے گا اور دوسرا حضرت مہدی کو اطلاع دے گا۔

حضرت مہدی کے ساتھ عرب وعجم کے لوگوں کے اجتماع کا سن کر عیسائی بھی شام اور روم سے لشکر جرار تیار کرکے حضرت مہدی کے مقابلے کے لئے شام میں اکٹھے ہوجائیں گے ۔ رومی افواج میں اس وقت اسی (۸۰) جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لشکر ہوگا، لشکر کی مجموعی تعداد نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔

حضرت مہدی براستہ مدینہ منورہ اپنے لشکروں کے ساتھ دمشق پہنچ جائیں گے اور وہاں سرزمین شام پر عیسائیوں سے سخت جنگ شروع ہوجائے گی۔ لشکر اسلام تین حصوں پر منقسم ہوجائے گا، ایک حصہ میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گا، جس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ دوسرا حصہ شہید ہوجائے گا اور تیسرا حصہ مسلسل لڑتا ہوا چار دن کی لڑائی کے بعد عیسائیوں پر غالب آجائے گا، عیسائیوں کا قتل عام ہوجائے گا اور حضرت مہدی ان کا خوب تعاقب کریں گے۔

جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت مہدی اپنے لوگوں پر مال غنیمت تقسیم کریں گے، مگر کوئی آدمی مال غنیمت پر خوش نہیں ہوگا ،کیونکہ کوئی گھر ایسا نہیں ہوگا، جس کا کوئی آدمی شہید نہیں ہوا ہوگا، پورے خاندان میں سے ایک آدمی بچا ہوگا تو وہ مال غنیمت کے ساتھ کیا کرے گا؟۔ حضرت مہدی داخلی نظم ونسق سنبھال کر قسطنطنیہ کی طرف متوجہ ہوجائیں گے۔ بحیرہٴ روم کے پاس بنو اسحاق کے ستر ہزار آدمی مسلمان ہوکر حضرت مہدی کے لشکر میں شامل ہوجائیں گے اور پھر کشتیوں میں سوار ہوکر شہر استنبول (جس کا پرانا نام قسطنطنیہ ہے) کو آزاد کرنے کے لئے چلے جائیں گے۔ شہر کی مضبوط فصیل کے سامنے مسلمان نعرہٴ تکبیر بلند کردیں گے، جس کی وجہ سے فصیل ٹوٹ جائے گی اور مسلمان قسطنطنیہ شہر میں داخل ہوجائیں گے، حضرت مہدی کی خلافت کے اس وقت سات سال پورے ہوچکے ہوں گے کہ اتنے میں افواہ پھیل جائے گی کہ دجال کا خروج ہوگیا ہے۔ حضرت مہدی جلدی جلدی واپس شام کی طرف آجائیں گے اور نو آدمیوں کو اس خبر کی تحقیق کے لئے روانہ کردیں گے، یہ لوگ بہترین لوگ ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :میں ان کو جانتا ہوں کہ کس قبیلے کے لوگ ہیں اور ان کے باپوں کے نام کیا کیا ہیں اور گھوڑوں کے رنگ کیا ہیں؟ یہ لوگ تحقیق کرلیں گے، لیکن معلوم ہوجائے گا کہ یہ افواہ تھی اور دجال کے متعلق یہ خبر غلط تھی، مگر کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ اچانک دجال کا خروج ہوجائے گا۔

دجال مشرق کی جانب سے نکلے گا اور ایران کے شہر اصفہان میں آکر نمودار ہوجائے گا ۔ اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس سے آکر مل جائیں گے، پہلے وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا ،پھر اصفہان میں آکر خدائی کا دعویٰ کرے گا ۔دجال کے ایک ہاتھ میں اس کی جنت اور دوسرے میں اس کی دوزخ ہوگی ۔ تمام دنیوی اسباب سے لیس ہوگا اور استدراج سے بھر پور فائدہ اٹھائے گا ۔اس کی پیشانی پر ”ک ف ر “ لکھا ہوگا، جس کو مسلمان پڑھ لے گا، یعنی کافر لکھا ہوگا۔ اس کے پاس بڑا استدراج ہوگا، مخالفین کا دانہ پانی بند کرے گا۔ خروج دجال سے پہلے تین سال تک قحط آچکا ہوگا، لوگ محتاج ہوں گے۔ دجال اس حالت سے خوب فائدہ اٹھائے گا، اس کے ساتھ زمین کے سارے خزانے ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے، دوستوں پر بارش برسائے گا، مخالفین پر سب کچھ بند کرے گا، دنیا کے بہت سارے ممالک پر چکر لگائے گا، صرف مکہ اور مدینہ نہیں جاسکے گا، وہاں سے فرشتے اس کو بھگا دیں گے۔ یہ پھر شام کی طرف متوجہ ہوگا، وہاں مہدی جنگی تیاریوں میں مصروف ہوں گے۔ عصر کی اذان ہوچکی ہوگی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ ڈالے ہوئے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینار پر جلوہ افروز ہوجائیں گے اور سیڑھی منگا کر نیچے آجائیں گے اور پھر حضرت مہدی سے ملاقات ہوجائے گی۔ حضرت مہدی ان کو نماز پڑھانے کا کہیں گے اور فوجی کمان سنبھالنے کی درخواست بھی کریں گے، مگر وہ انکار کریں گے اور کہیں گے کہ امامت اس امت کے ہاتھ میں ہوگی، میں صرف دجال کو مارنے کے لئے آیا ہوں۔

جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال پر حملہ کردیں گے اور لشکر اسلام دجال کے لشکر پر حملہ آور ہوجائے گا، شدید جنگ کے بعد دجال شکست کھا کر بھاگ جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور باب لُد میں جاکر اس کو نیزہ مار کر قتل کردیں گے، باب لد میں آج کل اسرائیل کا ایک ایسا ائیرپورٹ ہے جو صرف دجال کے بچاؤ کے لئے بنایا گیا ہے، وہاں جہاز تیار کھڑا ہے ،تاکہ ضرورت کے وقت دجال بھاگ جائے، مگر وہاں دجال مارا جائے گا، اس کے بعد یہودیوں کا قتل عام شروع ہوجائے گا، کوئی پتھر یا درخت کسی یہودی کی پناہ نہیں دے گا، بلکہ شکایت کرے گا کہ اے مسلمان !آجا۔ یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا بیٹھا ہے، اس کو ماردو، صرف غرقد نامی درخت شکایت نہیں کرے گا ،کیونکہ یہ یہود کا وفادار درخت ہے۔(آج کل یہودیوں نے اسرائیل کو اس درخت سے بھر دیا ہے، لیکن مسلمان اندھے نہیں ہوں گے، اگر غرقد درخت شکایت نہ بھی کرے، مسلمانوں کو آنکھوں سے یہودی نظر آئیں گے اور ان کو قتل کریں گے)

دنیا پر دجال کی چالیس دن تک حکومت رہے گی، اس میں ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، دوسرا ایک ماہ کے برابر ہوگا ، تیسرا ایک ہفتے کے برابر ہوگا اور باقی ایام معمول کے مطابق ہوں گے، دجال ایک گدھے پر سوار ہوکر پوری دنیا کا چکر لگائے گا، ہوسکتا ہے حقیقی گدھا ہو اور ہوسکتا ہے کہ جدید دور کا کوئی جہاز ہو، اس سے پہلے تفصیل کرچکا ہوں۔ بہرحال جب دجال کا فتنہ ختم ہوجائے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی دونوں مل کر ان شہروں کا دورہ کریں گے اور مصیبت رسیدہ لوگوں میں مال تقسیم کریں گے، جن شہروں میں دجال نے فساد برپا کیا تھا۔ امام مہدی کی خلافت میں عدل وانصاف ہوگا۔ حضرت مہدی کی حکومت نو سال تک رہے گی، سات سال تک عیسائیوں سے جنگیں ہوں گی اور آٹھویں سال میں دجال کا فتنہ ہوگا اور نویں سال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مل کر ملکی انتظام ٹھیک کریں گے اور ۴۹ سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوجائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کی نماز جنازہ پڑھادیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام خلیفہ بن جائیں گے۔ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحی ہو جائے گی کہ اپنے تمام مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پر جاکر پناہ لے لو، اس لئے کہ میں اپنی مخلوق میں سے ایک طاقتور مخلوق ظاہر کرنے والا ہوں، جس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام مسلمانوں کے ساتھ وہاں جاکر قلعہ بند ہوجائیں گے اور ادھر زمین پر یاجوج ماجوج کا خروج ہوجائے گا۔ یاجوج ماجوج یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں اور روس کے پیچھے کوہ قاف کے پاس کاکیشیا کے ساتھ درہٴ داریال کے علاقوں میں سد سکندری کے پیچھے بند ہیں۔ یاجوج ماجوج زمین پر نکل کر اس کو چاٹ لیں گے، پانی ختم ہوجائے گا۔ زمین کے جانداروں کو ختم کرکے کھاجائیں گے اور پھر آسمان کی طرف پتھر پھینکیں گے اور خوش ہوجائیں گے کہ اب ہم نے آسمان والوں کو بھی ختم کردیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں پر زندگی اتنی تنگ ہوجائے گی کہ گائے کا ایک کلَّہ ایک سو دینار میں فروخت ہوگا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاجوج ماجوج پر بددعا کریں گے، جس سے وہ سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے، پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد یمن کا ایک باشندہ آپ کا قائم مقام ہوجائے گا، جس کا نام جہجاہ ہوگا، وہ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا اور پھر وفات پائے گا۔ پھر کچھ غلط بادشاہ آجائیں گے اور دنیا ایک بار پھر جہل اور کفر سے بھر جائے گی اور زمین کے دھنسنے کے واقعات شروع ہوجائیں گے۔ پھر دنیا پر چالیس دن تک دھواں چھا یا رہے گا اور پھر ایک رات لمبی ہو جائے گی، لوگ پریشان ہوجائیں گے کہ صبح کیوں نہیں ہورہی ہے؟ اتنے میں سورج مغرب کی جانب سے طلوع ہوجائے گا، لوگ اسی پریشانی میں ہوں گے کہ اچانک دابة الارض کا خروج ہو جائے گا، دابة الارض کوہ صفا سے نکل کر آئے گا، یہ ایک عجیب الخلقت جانور کی شکل میں ہوگا ،مسلمان کی پیشانی پر ”م“ لکھے گا اور کافر کی پیشانی پر ”ک“ لکھے گا۔ مسلمان پر عصائے موسیٰ سے سفید نورانی نشان پڑ جائے گا اور کافر پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی سے سیاہ نشان بن جائے گا۔ دابة الارض کے خروج سے نفخ صور تک ۱۲۰ سال کا عرصہ ہوگا ،پھر جنوب کی طرف سے ایک ہوا چلے گی، جس سے نیک لوگ مر جائیں گے اور بعد میں برے لوگ مرجائیں گے۔ مسلمانوں کے مرجانے سے حبشہ کے لوگ غلبہ حاصل کریں گے اور فتنہ وفساد شروع کرلیں گے، اسی دوران وہ کعبہ مشرفہ کو گرادیں گے اور اس کے نیچے سے خزانہ لوٹ لیں گے، اس کے بعد جنوب کی طرف سے ایک بڑی آگ آجائے گی اور لوگوں کو شام کی طرف دھکیلے گی، یہ قیامت کی بڑی بڑی علامت ہوگی۔ اس کے بعد تین چار سال تک لوگ عیش وعشرت کی زندگی گزاریں گے اور مکمل غافل ہوجائیں گے کہ اللہ اللہ کہنے والا دنیا میں کوئی نہیں ہوگا، پھر ایک دن جمعہ کے روز دس محرم کو لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے کہ صور کی آواز شروع ہوجائے گی، یہ آواز بڑھتی جائے گی ،یہاں تک کہ لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے اور پھردل پھٹ جائیں گے، لوگ مرجائیں گے ،پھر زمین میں زلزلہ شروع ہوجائے گا اور پھر آسمان ٹوٹ پھوٹ کرگر جائیں گے ،پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر اڑ جائیں گے اور سمندر ابل کر جوش ماریں گے، حتی کہ یہ موجودہ کائنات بالکل فنا ہوجائے گی اور قیامت قائم ہوجائے گی-

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭼﯿﻦ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ
ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻧﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ
ﭘﮩﺮﯾﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﺗﮯ
ﺟﺎﺗﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺳُﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﮮ۔

ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺟﺲ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ
ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺎﺟﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﺎﺭﺕ
ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﺱ
ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﮧ ﯾ

ﭼﭩﺎﻥ ﺗﻮ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﻮﺍﺋﯽ
ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻧﻘﻂ
ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ
ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺨﺘﮯ
ﮈﮬﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﺎ ﮐﺮ
ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﮑﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ
ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍُﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﺩﻟﻮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ
ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﺎ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺗﯽ ﮐﺎﻡ
ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ۔
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﺎﺟﺮ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺴﯽ
ﺷﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻦ ﮔﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﯽ
ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﺎﺟﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺍﻥ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ
ﻓﺮﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﺗﮭﺎ!

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮎ ﮐﺮ
ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﮨﻞ، ﺑﯿﮩﻮﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ
ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﺩﯼ، ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ۔

ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻟﻮﮒ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﭘﺘﮭﺮ ﮐﻮ ، ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺘﮯ
ﺭﮨﮯ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ
ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﻮﮎ
ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻮﺋﯽ
ﺷﮑﻮﮦ ﮐﯿﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ
ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ
ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ
ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺭﺍﮨﮕﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ
ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ
ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﮨﭩﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ
ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ
ﻣﻞ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﮐﺮﭼﭩﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ
ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﯽ ﺗﻮ
ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮔﮍﮬﺎ ﮐﮭﻮﺩ ﮐﺮ
ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻗﭽﯽ
ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺟﺴﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ
ﺍﻭﺭ ﺧﻂ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ
ﺗﮭﺎ ﮐﮧ: ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺱ
ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻭﺭ
ﻋﻤﻠﯽ ﺳﻮﭺ ﻧﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ
ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺣﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ
ﺟﺎﻧﺎ۔

ﮐﯿﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺮﺩﻭ ﻧﻮﺍﺡ ﻣﯿﮟ
ﻧﻈﺮ ﺩﻭﮌﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ۔ ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ
ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮨﻢ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ
ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ!
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﻭ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ
ﺑﻨﺪ، ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﻮ
ﺣﻞ ﮐﺮﻧﺎ؟