دے اور دل اُن کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

Tuesday, October 11, 2005

 

عشق ایک کرشمہ ہے

عشق ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

جیسے کوئی درِدل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے

اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے

تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلہءِ کن فیکوں ہے، یوں ہے

Comments:
Hi
 
Thanks for sharing this beautiful nazam....I liked this blog.
Please visit here to read free online urdu poetry aur novels.

freesoftware.orgfree.com/onlinebooks.html
 
Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]





<< Home

Archives

October 2005   February 2008  

This page is powered by Blogger. Isn't yours?

Subscribe to Posts [Atom]